نئی دہلی،8/فروری (ایس او نیوز/ آئی این ایس ا نڈیا) دہلی اسمبلی انتخابات کے لئے ووٹنگ مکمل ہوگئی۔ 15 دسمبر سے سی اے ا ے اور این آرسی کیخلاف مظاہرہ کی وجہ سے چرچا میں آئے،شاہین باغ علاقے میں بھی لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے نکلے اور یہاں تقریباً 65 فیصدی ووٹنگ ہوئی۔
خیال رہے کہ دہلی اسمبلی انتخابات کے تناظر میں اشتعال انگیزی بھی خوب ہوئی۔لیڈران نے شاہین باغ کے متعلق ناروا بیان دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،بلکہ سیاسی لیڈران نے اپنی بیان بازی سے ”ڈرٹی پولٹکس“ کامظاہرہ کیا۔ کئی لیڈران کو کمیشن کی طرف سے نوٹس بھی بھیجے گئے تو وہیں اشتعال انگیز بیان دینے پر انتخابی تشہیر پر پابندی بھی لگائی گئی۔
خیال رہے کہ سی اے اے اور مجوزہ این آرسی کیخلاف احتجاج کا مرکز بنے شاہین باغ (اوکھلا، اسمبلی حلقہ) میں پانچ پولنگ بوتھ بنائے گئے تھے۔ یہاں خواتین الگ الگ جماعت میں ووٹ ڈالنے آئیں،تاکہ مظاہرہ پر ووٹنگ کا اثر نہ پڑے۔دہلی میں قریب 1.47 کروڑ ووٹر ہیں، ان میں قریب 66 لاکھ خواتین ہیں۔
گزشتہ اسمبلی انتخا ب 2015 میں ہوا تھا۔ عام آدمی پارٹی (آپ) نے 70 میں سے 67 سیٹیں جیتی تھیں۔ بی جے پی کو تین سیٹوں پرقناعت کرنا پڑی تھی۔15 سال دہلی کے اقتدار پر قابض رہنے والی کانگریس کا اکاؤنٹ تک نہیں کھل سکا تھا۔ اس بار بھی راست مقابلہ بی جے پی اور آپ کے درمیان ہی نظر آ رہا ہے، تاہم کانگریس کا دعوی ہے کہ دہلی کے نتائج حیران کرنے والے ہوں گے۔حکام کے مطابق ووٹنگ پرُ امن طریقہ سے اختتام پذیر ہوا، کسی طرح کے حادثہ کی کوئی طلاع نہیں ہے۔
وہیں دیگر مشہور شخصیات نے اپنے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا جن میں سپریم کورٹ کی جسٹس آر بھانومتی، مرکزی وزیر ہرش وردھن، ایم پی پرویش ورما، چاندنی چوک سے کانگریس امیدوار الکا لامبا نے ووٹ ڈالا۔صدر رام ناتھ کووند، وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے بھی ووٹ کا حق استعمال کیا۔ وزیر اعلی اروند کجریوال نے پورے خاندان کے ساتھ ووٹ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ عام آدمی پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئے گی۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے بھی ووٹ ڈالا۔راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا نے شوہر رابرٹ سمیت ووٹ دیا۔ پرینکا-رابرٹ واڈرا کے بیٹے ریحان نے پہلی باراپنے حق رائے کا استعمال کیا۔ علاوہ ازیں ایگزٹ پول کی قیاس آرائی بھی جاری ہے، جس میں عام آدمی پارٹی کو واضح اکثریت ملی ہوئی نظر آتی ہے۔ بی جے پی کو 10-26نشستوں پر جیت ملتی ہوئی نظر آتی ہے، تووہیں 0-2نشست کانگریس کو ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔